ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک حجاب معاملہ: ایڈوکیٹ کامتھ نے کی عبوری حکم کو معطل کرنے کی اپیل، کہا کہ حکم نامہ میں حجاب پر پابندی کا تذکرہ نہیں

کرناٹک حجاب معاملہ: ایڈوکیٹ کامتھ نے کی عبوری حکم کو معطل کرنے کی اپیل، کہا کہ حکم نامہ میں حجاب پر پابندی کا تذکرہ نہیں

Tue, 15 Feb 2022 16:30:54    S.O. News Service

بھٹکل15 فروری (ایس او نیوز)  ریاست کرناٹک میں سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر پابندی عائد کرنے کے  تعلق سے   ہائی کورٹ کی توسیعی بینچ میں جاری  سماعت کے   تیسرے  دن  آج منگل کو  باحجاب طالبات کی  پیروی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ  دیودت کامتھ نے  ایک طرف حجاب پر پابندی عائد کرنے کو آئین مخالف قرار دیا  وہیں انہوں نے جج صاحبان سے فریاد کی کہ انکا   (جمعرات کو جاری کیا ہوا )  عبوری حکم انتہائی وسیع ہے اور آرٹیکل 25 اور  دیگر حقوق سے ٹکراتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عملی طور پر یہ عبوری حکم بنیادی حقوق کو معطل کردیتا ہے اس لئے  اسے جاری نہ رکھا جائے۔ جج صاحبان سے انہوں نے گزارش کی کہ تھوڑی سی نرمی برتیں اور  وقتی طور پر طالبات کو  یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے کی اجازت دیں کیونکہ عدالت کا قطعی  فیصلہ آنے  میں وقت لگے گا۔

کل پیر کی طرح سہ رکنی بینچ میں آج  بھی ایڈوکیٹ کامتھ نے مدلل  انداز میں اپنی بات رکھی اور دوپہرڈھائی بجے سے شام چار بجے تک  مسلسل    بحث کی۔ آج ان کی بحثٖ مکمل ہوئی جس میں  انہوں نے  ایک سے ایک دلائل پیش کرتے ہوئے عدالت کو   قائل کرنے کی کوشش کی کہ حجاب پر پابندی عائدکرنا آئین  کے خلاف ہے۔ آج شام قریب چار بجے ایڈوکیٹ دیودت کامتھ کی بحث مکمل ہوئی۔   چونکہ مزید درخواست گذاروں کو بھی اپنی بات رکھنی تھی، اس بناء پر آج بھی عدالت اپنا فیصلہ نہیں سناسکی اور کل بدھ 16 فروری  ڈھائی بجے کےلئے کاروائی  ملتوی کردی گئی۔

اُڈپی  کی باحجاب طالبات کی طرف سے ایک اور پیٹیشن  دائر کرتے ہوئے آج کرناٹک کے ایک اور سابق  ایڈوکیٹ جنرل روی ورما کمار نے عدالت کو بتایا کہ   مجھے (اُڈپی طالبات کو )  28 دسمبر سے اسکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ۔ ایڈوکیٹ کمار نے  اعتراضی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ  ان کا کہنا ہے کہ   انسٹی  ٹیوشن کا ضابطہ اخلاق ہے، لیکن وہاں کوئی ضابطہ اخلاق نہیں ہے۔ کمار نے یہ بھی کہا کہ  حکومت نے یونیفارم ڈریس کوڈ کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔اس کے لئے  ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینی ہے اور ابھی تک حکومت نے نہ کوئی یونیفارم تجویز کیا ہے اور نہ ہی  حجاب پہننے پر پابندی عائد کی ہے۔ ایڈوکیٹ کمارکے مطابق  سرکاری حکم نامہ (GO)  میں بھی حجاب پہننے کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔سرکار کا کہنا ہے کہ  اُسے یونیفارم کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے۔ ایڈوکیٹ کمار نے عدالت کو بتایاکہ  برائے مہربانی اس حقیقت کو  دھیان میں  رکھیں کہ مذہبی اقلیتی برادری کے لئے   حجاب پہننے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ GO کے مطابق  CDC (کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی)  اسے تجویز کرے گا۔ اس وقت تک، ایسے کپڑے پہننے چاہئے  جو امن عامہ، مساوات یا اتحاد کے لیے خطرہ نہ ہوں۔ کمار نے یہ بھی کہا کہ  ہم کسی بھی امن عامہ، مساوات یا اتحاد کی خلاف ورزی نہیں کر رہے ہیں۔

کمارکے مطابق  ایجوکیشن ایکٹ ایک مکمل ضابطہ ہے۔  اور کالج میں جو  کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی قائم ہے وہ  قانون کے تحت ایک غیر موجود ادارہ ہے۔ یہ ایک ماورائے قانون  اتھارٹی ہے جسے اب یونیفارم تجویز کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، یہ ایکٹ کی اسکیم اور قواعد کے خط کے برعکس ہے۔

ایجوکیشن ایکٹ کے سیکشن 2(17) کا حوالہ دیتے ہوئے، کمار نےبتایا  کہ گورننگ کونسل گورنمنٹ PU کالجوں یا  دیگر کالجوں کے لیے ہو سکتی ہے۔ اور  ایکٹ کے تحت کالج ڈیو لپمنٹ  کمیٹی کو کسی طرح کی کوئی  اتھارٹی نہیں ہے۔

ایڈوکیٹ کمار نے بتایا کہ  کالج کل(بدھ سے)  دوبارہ کھل رہے ہیں۔ اس لیےمیں اپنی    درخواست  دوبارہ جمع کر رہا ہوں ۔ یاد رہے کہ ان کی درخواست میں حکام کی جانب سے لڑکیوں اور اساتذہ کو حجاب پہننے سے روکنے کے لیے ہائی کورٹ کے حکم کے غلط استعمال کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس پر سرکاری وکیل (ایڈووکیٹ جنرل) نے  اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ  حلف نامہ وکیل کے ذریعہ داخل کیا گیا ہے۔جواب میں ایڈوکیٹ طاہر نےکہا کہ دیوانی قوانین کے تحت  بعض حالات میں وکیل کو حلف نامہ داخل کرنے کی اجازت ہوتی  ہے۔لیکن   چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ کی جانب سے  داخل کردہ  حلف نامہ کو مسترد کردیا اور کہا کہ حلف نامہ پارٹی کو ہی داخل کرنا ہوگا۔ اب کل بدھ دوپہر   2.30 بجے عدالت میں پھر سماعت شروع ہوگی۔ 


Share: